KAAM KI BEHTREEN MANSOOBA BANDI
MUHAMMMAD MUSTAFA ZAHID QASMI
7/24/20261 min read


بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک حاکم اور ذمہ دار کی من جملہ خوبیوں کے ایک خوبی جو ایک شہر اور قوم ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری مملکت اور اس کے شہریوں کے لیے فائدہ مند اور خوشحالی و ترقی کی بنیاد ہے وہ ہے کاموں کی منصوبہ بندی ،
منصوبہ بندی اور عملی تنظیم کا کام جتنا خوبی سے ہوگا اس کی افادیت اتنی ہی زیادہ ہوگی اس سلسلے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے سے روشنی ملتی ہے قران کریم سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سورہ یوسف کی یہ ایتیں نئی نہیں ہیں سورہ کی ابتدا میں ہی فرمایا ، " نحن نقص عليك احسن القصص "
کہ ہم تمہارے سامنے قصوں میں سب سے بہتر قصہ بیان کرتے ہیں جو پورا قصہ ہی دلچسپ حقیقت افروز اور دور رس و عبرت کا خزانہ ہے مگر ہمیں اس موقع پر صرف تین ایتوں کو ذکر کرنا ہے،
قال تزرعون سبع سنين دابا فما حصلتم فذروه في سنبله الا قليلا مما تاكلون ثم ياتي من بعد ذلك سبع شداد ياكلن ما قدمتم لهن الا قليلا مما تحصنون ثم ياتي من بعد ذلك عام فيه يغاث الناس وفيه يعصرون ، (سوره يوسف)
کہا (یوسف نے ) سات برس تک لگاتار تم کھیتی کرتے رہو گے اس دوران جو کھیتی تم کاٹو اس میں سے بس تھوڑا حصہ جو تمہاری خوراک کے کام ائے نکالو اور باقی کو اس کی بالیوں میں رہنے دو ، پھر سات برس بہت سخت ائیں گے ، اس زمین میں سے وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اس وقت کے لیے بچا کر رکھو اس کے بعد پھر ایک سال ائے گا ، جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ اسے نچوڑیں گے ،
حضرت یوسف علیہ السلام نے اس تعبیر میں صرف بادشاہ کے خواب کا مطلب بتانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ خوشحالی کے ابتدائی سات پرسوں میں انے والے قحط کے لیے کیا پیش بندی کی جائے اور غلہ کو محفوظ رکھنے کا کیا بندوبست کیا جائے
" اجعلني على خزائن الارض "
تلمود کا بیان ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو حکومت کے اختیارات سونپنے کا فیصلہ تنہا بادشاہ ہی نے نہیں کیا تھا بلکہ پوری شاہی کونسل نے بالاتفاق اس کے حق میں رائے دی تھی ،
یہ اختیارات جو یوسف علیہ السلام نے مانگے تھے ان کی نوعیت کیا تھی ، قران کریم ، بائبل اور تلمود کی متفقہ شہادت ہے کہ درحقیقت یوسف علیہ السلام مصر کے مختار كل بنائے گئے تھے ،
حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی حکومت کے پہلے سات سال مصر میں انتہائی خوشگوار گزرے اور ان ایام میں انہوں نے انے والے قحط کے لیے وہ پیش بندیاں کر لیں جن کا مشورہ بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتاتے وقت وہ دے چکے تھے اس کے بعد قحط کا دور شروع ہوا اور یہ قحط صرف مصر ہی میں نہیں تھا بلکہ اس پاس کے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں ا گئے تھے شام ، فلسطین ، شرق اردن ، شمالی عرب ہر جگہ خشک سالی کا دور دورہ تھا ، ان حالات میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دانشمندانہ انتظام کی بدولت صرف مصر ہی وہ ملک تھا جہاں قحط کے باوجود غلہ کى افراط تھی
Explore our maktaba al wajidI also here:
Contact
Newsletter
info@maktabahalwajid.com
+91 63989 93606
© 2026. All rights reserved.
+91 78308 71324

