HUME PASTI KYUN BHANE LAGI

MUHAMMAD MUSTAFA ZAHID QASMI

7/24/20261 min read

ہمیں پستی کیوں بھانے لگی ؟
ابن خلدون " المقدمہ" میں لکھتے ہیں عربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں نخوت غیرت اور سختی کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے ترکوں کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں طاقت جرات اور اکڑپن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے انگریزوں کو خنزیر کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں فحاشی وغیرہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے حبشی افریقی بندر کھاتے ہیں اس لیے ان میں ناچ گانے کی طرف میلان زیادہ پایا جاتا ہے ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس کو جس حیوان کے ساتھ انس ہوتا ہے اس کی طبیعت میں اس حیوان کی عادتیں غیر شعوری طور پر شامل ہو جاتی ہے اور جب وہ اس حیوان کا گوشت کھانے لگ جاتے ہیں اس حیوان کے ساتھ مشابہت میں مزید اضافہ ہ ہو جاتا ہے
اس پر ایک عرب صحافی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ہمارے زمانے میں فارمی مرغی کھانے کا رواج بن چکا ہے چنانچہ ہم بھی مرغیوں کی طرح صبح و شام چوں چوں تو بہت کرتے ہیں لیکن ایک ایک کر کے ہمیں ذبح کر دیا جاتا ہے فارمی مرغی کا گوشت کھانے کی وجہ سے ہمارے اندر سستی کاہلی ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے کی سر جھکا کر چلنے کی اور پستی میں رہنے کی عادتیں پیدا ہو چکی ہیں