GHAR KA ASAL WASF SUKOON HAI

MUHAMAMD MUSTAFA ZAHID QASMI

7/25/20261 min read

گھر کا اصل وصف سکون ہے

قران کریم میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

والله جعل لكم من بيوتكم سكنا ( ما سوره النحل )

یعنی اللہ تعالی نے تمہارے گھروں کو تمہارے لیے سکون کی جگہ بنایا لہذا گھر کا سب سے اعلی وصف یہ ہے کہ اس کے اندر جانے کے بعد انسان کو سکون نصیب ہو اگر سکون نصیب نہیں تو پھر وہ گھر چاہے کتنا ہی بڑا بنگلہ کیوں نہ ہو اس کا کچھ فائدہ نہیں اور اگر جھوپڑی ہو اور اس کے اندر سکون حاصل ہو جائے تو وہ بڑے بڑے محلات سے بہتر ہے اس لیے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ میرے گھر میں کشادگی عطا فرما ،

گھر میں خوبصورتی سے زیادہ کشادگی مطلوب ہے

اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا نہیں فرمائی کہ میرے گھر کو خوبصورت بنا دیجیے یا میرے گھر کو عالی شان بنا دیجئے بلکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشادگی کا لفظ استعمال فرمایا حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اس جملے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ گھر کی اصل وصفت یہ ہے کہ اس میں کشادگی ہو تنگی نہ ہو کیونکہ اگر تنگی ہوگی تو وہ انسان کے لیے تکلیف دہ ہوگی اور کشادگی انسان کے لیے راحت کا سبب ہوگی ، باقی ٹپ ٹاپ اور ارائش یہ زائد چیزیں ہیں انسان کی اصل ضرورت یہ ہے کہ گھر کے اندر کشادگی ہو اس لیے اپ نے یہ دعا فرمائی ،

تین چیزیں نیک بختی کی علامت ہے

ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین چیزیں انسان کی سعادت میں سے ہیں ایک اچھی بیوی ، دوسرے کشادگی والا گھر ، تیسرے خوشگوار اور ارام دہ سواری ، اس لیے اپ نے یہ دعا فرمائی کہ اللہ میرے گھر میں خوشادگی عطا فرما ـ

دلوں کا ملا ہوا ہونا کشادگی میں داخل ہے

پھر کشادگی کا لفظ اتنا وسیع ہے کہ اس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ گھر بڑا ہو بلکہ اس کے اندر یہ بات بھی داخل ہے کہ گھر والوں کے دل باہم ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوں اگر گھر تو بڑا ہے لیکن گھر والوں کے دل ملے ہوئے نہیں ہیں تو وہ گھر بڑا ہونے کے باوجود گھر کی راحت اس میں نہیں حاصل ہوتی لہذا اس دعا کے اندر یہ بات بھی داخل ہے کہ گھر کے ماحول کے اندر راحت ملے یہ نہ ہو کہ گھر میں داخل ہو کر انسان ایک عذاب کے اندر مبتلا ہو جائے ـ