BADON KA BADA MAQAM

MOHAMMAD MUSTAFA ZAHID QASMI

7/25/20261 min read

بسم الله الرحمن الرحيم

ایمان و اعمال کے ساتھ زندگی گزارنے والے ، حقوق اللہ اور حقوق الناس کی ادائیگی کرنے والے جب بچپن اور جوانی کو تجاوز کر کے بڑھاپے کو پہنچتے ہیں اور حالت اسلام میں ان کے بال بھی سفید ہو جاتے ہیں تو دنیا میں ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت انہیں تسلی دیتی ہے اور اخرت کے مراحل کے حوالے سے پر امید بناتی ہے ، ارشاد نبوی ہے :

"من شاب شيبه في الاسلام كانت له نورا يوم القيامه۔" (الترمذي )

جو شخص حالت اسلام میں بوڑھا ہو گیا ہو( اس کے بال سفید ہو گئے ہوں ) تو یہ سفیدی قیامت کے روز اس کے لیے نور کی شکل میں ہوگی ،

بڑی عمر کے لوگوں کا وجود ہمارے گھروں اور ہمارے معاشرے کے لیے باعث خیر و برکت ہے ٫ اس لیے ان کے مقام و مرتبے کو پہچاننا۔ ، ان کی عزت کرنا اور ان کا تعاون کرنا ہماری ذمہ داری ہے ؛ لیکن کچھ بد قسمت ایسے بھی ہیں جو ان بزرگ مردوں اور عورتوں کے وجود کو بوجھ سمجھتے ہیں اور انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؛ اس طرح کے لوگوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی برات کا اظہار فرمایا ہے :

" ليس منا من لم يرحم صغير نا ويعرف شرف كبير نا "۔ (الترمذي )

وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی سے پیش نہ ائے اور ہمارے بڑوں کے مقام کو نہ پہچانے ،

اسلام میں بڑی عمر کے لوگوں کا بڑا مقام و مرتبہ ہے جسے پہچاننا ضروری ہے ،لان کا مقام اس لیے بھی بلند ہے کہ جو ان سے چھوٹے ہیں ان کی بنسبت ان کی نمازوں کی تعداد زیادہ ہے ، روزے زیادہ ہیں ، اسی طرح دیگر عبادات بھی ، اسی لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وقتا فوقتا ان کے احترام کی تاکید فرماتے رہتے تھے ،

ایک مرتبہ حضرت عبد الرحمن بن سہل اور محیصہ اور حویصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قتل کے قضیے میں گفتگو کے لیے حاضر ہوئے چنانچہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ نے جو ان میں عمر میں چھوٹے تھے گفتگو کا اغاز کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" کبر " یعنی اپنے سے بڑے کو بولنے دو پھر وہ خاموش ہو گئے اور محیصہ اور حویصہ نے بات کی ، ( بخاری و مسلم )

اسی طرح کا ایک واقعہ امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے ذکر کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اراني في المنام اتسوك. بسراك فجذبنى رجلان احدهما اكبر من الاخر، فناولت السواك الاصغر منهما ، فقيل لي : كبر, ودفعته الى الاكبر ، ( مسلم )

میں نے خواب میں اپنے اپ کو مسواک کرتے ہوئے دیکھا پھر دیکھا کہ دو شخص ہیں جو مسواک لینے کے لیے مجھے اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں ان میں سے ایک بڑا تھا دوسرے سے میں نے مسواک چھوٹے کو دے دی پھر مجھ سے کہا گیا بڑے کو دیں ،تو میں نے بڑے کو مسواک دے دی ، ( مسلم شریف )

چناں چہ جن گھروں میں بچپن سے ہی بڑوں کی تعظیم و تکریم سکھائی جاتی ہے ان کا مقام و مرتبہ سمجھایا جاتا ہے ان گھروں میں پرورش پانے والے بچے اس صالح تربیت کے نتیجے میں نمونہ اخلاق بن کر ابھرتے ہیں چناں چہ وہ اپنے بڑوں کو بالخصوص بوڑھوں کو ہمیشہ پیش پیش رکھتے ہیں جب ساتھ چلتے ہیں تو ان کے پیچھے چلتے ہیں کسی مقام پر پہنچتے ہیں تو داخل ہونے میں انہیں اگے رکھتے ہیں اسی طرح نکلتے وقت ان کو مقدم رکھتے ہیں کھانے پینے میں انہیں سے اغاز کرتے ہیں کسی خاص جگہ گفتگو کے لیے انہی کو وہ متکلم بناتے ہیں ،

امام مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو عبداللہ ( امام احمد ابن حنبل ) عمر رسیدہ لوگوں کی بہت زیادہ عزت و تکریم کرنے والوں میں تھے ایک بار ابو ہمام اپنے خچر پہ سوار ہو کر تشریف لائے تو ابو عبداللہ نے ان کی رکاب پائے دان کو پکڑے رکھا تاکہ وہ اسانی سے اتر سکیں کہتے ہیں کہ میں نے انہیں اسی طرح ان لوگوں کے ساتھ کرتے ہوئے دیکھا جو عمر میں ان سے بڑے ہوتے تھے،

رب العزت ہم سبھی کو توفیق دے،امین