AADATEIN NASLON KA PATA DETI HAIN
MUHAMMAD MUSTAFA ZAHID QASMI
7/24/20261 min read


عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لیے حاضر ہوا قابلیت پوچھی گئی تو اس نے کہا سیاسی ہوں (عربی میں سیاسی افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ہیں),,
بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھرمار تھی اسے خاص ،، گھوڑوں کی اصطبل کا انچارج ،، بنا لیا جو حال ہی میں فوت ہو چکا تھا چند دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا اس نے کہا : نسلی نہیں ہے بادشاہ کو تعجب ہوا اور اس نے جنگل سے سائیس کو بلا کر دریافت کیا اس نے بتایا گھوڑا نسلی ہے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مر گئی تھی یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ہے مسول کو بلایا گیا ، تم کو کیسے پتہ چلا کہ نسلی نہیں ہے اس نے کہا جب یہ گھاس کھاتا ہے تو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لے کر سر اٹھا لیتا ہے بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ہوا مسول کے گھر اناج گھی بھنے دنبے اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا ،
چند دنوں بعد بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے میں رائے مانگی اس نے کہا طور و اطوار تو ملکہ جیسے ہیں لیکن شہزادی نہیں ہے بادشاہ کے پیر وں تلے زمین نکل گئی ، حواس بحال کیے ساس کو بلا بھیجا ا معاملہ اس کے گوش گزار کیا اس نے کہا حقیقت یہ ہے کہ تمہارے باپ نے میرے خاوند سے ہماری بیٹی کی پیدائش پر ہی رشتہ مانگ لیا تھا لیکن ہماری بیٹی چھ ماہ میں ہی فوت ہو گئی تھی چنانچہ ہم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لیے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنا لیا بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا تم کو کیسے علم ہوا اس نے کہا اس کا خادموں کے ساتھ سلوک جاہلوں سے بدتر ہے بادشاہ اس کی فراست سے خاصہ متاثر ہوا بہت سااناج بھیڑ بکریاں بطور انعام دیں اور ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا ٫
کچھ وقت گزرا مصاحب کو بلایا اپنے بارے میں دریافت کیا مصاحب نے کہا جان کی امان بادشاہ نے وعدہ کیا اس نے کہا نہ تو تم بادشاہ زادے ہو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ہے بادشاہ کو تاؤ ایا مگر جان کی امان دے چکا تھا سیدھا والدہ کے محل پہنچا والدہ سے پوچھا والدہ نے کہا یہ سچ ہے تم ایک چرواہے کے بیٹے ہو ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا بتا تجھے کیسے معلوم ہوا اس نے کہا بادشاہ جب کسی کو انعام دیا کرتا ہے اور اکرام سے نوازتا ہے تو ہیرے موتی جواہرات کی شکل میں دیتے ہیں لیکن اپ بھیڑ بکریاں کھانے پینے کی چیز عنایت کرتے ہیں یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ہو سکتا ہے
حاصل کلام عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہے ماتھے پر کسی کے کچھ لکھا نہیں ہوتا انسان کی عادات اخلاق اور طرز عمل خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ہیں
Explore our maktaba al wajidI also here:
Contact
Newsletter
info@maktabahalwajid.com
+91 63989 93606
© 2026. All rights reserved.
+91 78308 71324

